ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یو جی سی نے بنگلور یونیورسٹی کو فاصلاتی تعلیم کی منظوری دیدی

یو جی سی نے بنگلور یونیورسٹی کو فاصلاتی تعلیم کی منظوری دیدی

Wed, 03 Oct 2018 11:36:38    S.O. News Service

بنگلورو،3؍اکتوبر(ایس او نیوز) یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) نے بنگلور یونیورسٹی کو جاریہ تعلیمی سال میں فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے کی اجازت دیدی ہے ، واضح رہے کہ بنگلور یونیورسٹی اور یو جی سی کے درمیان حالیہ ایک مشاورتی اجلاس کے دوران یو جی سی نے تعلیمی سال 2018-19 اور آئندہ پانچ سالوں تک کے لئے مذکورہ کورس کو منظوری دے دی ہے، البتہ یونیورسٹی اس ضمن میں با قاعدہ دفتری اطلاع نامہ کا انتظار کر رہی ہے۔بنگلور یونیورسٹی کے شعبہ برائے فاصلاتی تعلیم کے کارگزار ڈائرکٹر بی سی مائلارپا نے بتایا کہ ’’ہم نے ضروری دستاویزات اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق رپورٹ یو جی سی کی خدمت میں پیش کر دی ہے ، میں نے بذات خود یو جی سی حکام کے سامنے تمام چیزوں کا مظاہرہ کیا تھا اور انہوں نے زبانی اس کی اجازت دے دی ہے، ہم اب با قاعدہ دفتری ہدایت نامہ کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے حال ہی میں ملک کی ان تمام یونیورسٹیوں کو جو فاصلاتی تعلیم کی خدمات فراہم کرتی ہیں ایک گشتی مراسلہ روانہ کیا تھا ، جس کے نتیجہ میں بنگلور یونیورسٹی اور ریاست کی دوسری کئی یونیورسٹیاں پریشانوں کا شکار ہوگئی تھیں۔یو جی سی نے ایک نوٹس جاری کی تھی کہ تعلیمی سال 2018-19 اور اس کے بعد کے لئے فاصلاتی تعلیم کی اجازت کے لئے وہی اعلیٰ تعلیمی ادارے درخواست داخل کر سکتے ہیں جنہیں نیشنل اسسمنٹ اینڈ اکریڈٹیشن کونسل (این اے اے سی) کی طرف سے مناسب اکریڈٹیشن حاصل ہو اور جس کی سی جی پی اے کی کم سے کم مقدار 3.26 ہو۔لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ این اے اے سی کے چار سطحی پیمانہ پر بنگلور یونیورسٹی کا سی جی پی اے صرف 3.16 کے معیار پر ہے۔اس نوٹس کی اشاعت یو جی سی کے (فاصلاتی اور کھلی تعلیم) کے دوسرے ترمیمی ضوابط 2018 کے بعد ہوئی تھی ۔یو جی سی نے اعلیٰ تعلیم کے تمام اداروں کو اطلاع دی تھی کہ اگست سے اکتوبر 2017 کے درمیان جو درخواستیں فاصلاتی تعلیم کے لئے طلب کی گئی تھیں ان سب کو رد کر دیا گیاہے ، مذکورہ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ایسے تعلیمی ادارہ جات جن کے پاس این اے اے سی کی چار سطحی پیمائش میں 3.26 کے معیار کا تصدیق نامہ موجود ہو اور جو کم از کم پانچ سالوں سے قائم ہوں وہی ادارے تعلیمی سال 2018-19 میں فاصلاتی تعلیم کے لئے درخواست داخل کر سکتے ہیں‘‘ ۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ضابطوں کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سال 2018-19 اور اس کے بعد کے لئے او ڈی ایل پروگرام چلانے کے لئے یو جی سی میں از سر نو درخواست داخل کریں‘‘۔بنگلور یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ بنگلور یونیورسٹی کی این اے اے سی میں سی جی پی اے کا معیار 3.16 ہے اور اس کی میعاد سال 2021 تک کے لئے ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بنگلور یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی حذمات کو رد کر دیا گیا تھا اور سال 2017 میں اسے تعلیمی سال 2016-17 اور 2017-18 کے لئے دوبارہ منظوری حاصل ہوئی تھی۔یو جی سی کی نوٹس میں کہا گیا ہے ’’ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جنہیں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کی طرف سے فاصلاتی اور کھلی تعلیم (او ڈی ایل) کے طریقہ تعلیم برائے سال 2017-18کی منظوری ملی ہوئی ہے، انہیں تعلیمی سال 2019-20 کے اختتام تک او ڈی ایل کے تحت تعلیم فراہم کرنے کی اجازت حاصل رہے گی ، تاکہ انہیں این اے اے سی کے بینچ مارک کے مطابق معیار حاصل ہو سکے‘‘۔حالانکہ ضابطوں کے مطابق بنگلور یونیورسٹی کو فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے کے لئے سال 2021 تک انتظار کرنا تھا ، کیونکہ اس کا این اے اے سی کا جو معیار ہے وہ سال 2020 تک کے لئے ہے۔اس کے باوجود بنگلور یونیورسٹی نے اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے یو جی سی میں درخواست داخل کی تھی کہ اس کے پاس تمام معیارات کی تکمیل کے لئے بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور تمام ضابطوں کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے، جس کے بعد یو جی سی حکام نے زبانی طور پر بنگلور یونیورسٹی کو فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے کی اجازت دی ہے۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے سال 2014-15 اور 2015-16 کے لئے بنگلور یونیورسٹی کے تحت فاصلاتی تعلیمی نظام کی اجازت کی تجدید نہیں کی تھی، دو سال کے وقفہ کے بعد یو جی سی نے سال 2016-17 کے لئے دوبارہ اس کی اجازت مرحمت کی تھی۔اس کے بعد یونیورسٹی نے مارچ 2017 میں داخلوں کی کارروائی کا آغاز کیا اور یہ کارروائی اپریل کے مہینہ میں مکمل کر لی گئی، اس نظام تعلیم کے تحت امتحانات جون اور جولائی 2017 میں منعقد ہونے تھے، لیکن داخلوں کی کارروائی میں چونکہ تاخیر ہو گئی تھی جس کی وجہ سے پچھلے سال امتحانات کی تاریخوں کو بھی ستمبر اور اکتوبر 2017تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا تھا ، اس کے علاوہ بنگلور یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیم کے طلباء یونیورسٹی پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہیں وقت پر نصابی مواد حاصل نہیں ہوتا ہے۔اب اگرچہ کہ زبانی طور پر یوجی سی کی منظوری حاصل ہو گئی ہے لیکن با قاعدہ دفتری ہدایت نامہ کے اجراء سے قبل یونیورسٹی نئے داخلوں کے لئے نوٹس جاری نہیں کر سکتی ہے جس کے لئے ابھی انتظار کیا جا رہا ہے۔


Share: